30 نومبر 2025 - 19:05
وان میں ایرانی قونصل خانہ جلد فعال ہوگا، شام کو سب سے بڑا خطرہ اسرائیل سے ہے: عباس عراقچی

ایران کے وزیرِ خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران اور ترکیہ محض ہمسایہ نہیں بلکہ قریبی دوست اور برادر ممالک ہیں، جبکہ شام کے لیے سب سے بڑا خطرہ اسرائیلی جارحیت سے لاحق ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، سید عباس عراقچی نے ترک وزیرِ خارجہ ہاکان فیدان کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں اپنے ترک ہم منصب کو خوش آمدید کہتا ہوں  اور آج ان کی میزبانی پر خوشی محسوس کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایران اور ترکیہ کے درمیان سرحدیں امن اور دوستی کی علامت ہیں اور دونوں ممالک کے تعلقات باہمی احترام اور اعتماد کی بنیاد پر قائم ہیں۔

عباس عراقچی نے بتایا کہ آج کی ملاقات میں ایران۔ترکیہ اعلیٰ سطحی تعاون کونسل کے انعقاد کی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا ہے اور امید ہے کہ یہ اجلاس جلد تہران میں دونوں ممالک کے صدور کی صدارت میں منعقد ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی حجم میں اضافہ ہو رہا ہے، تاہم مقررہ اہداف کے حصول کے لیے مزید پیش رفت کی ضرورت ہے۔ ایران ترکیہ کے ساتھ گیس معاہدے کی مدت میں توسیع اور توانائی کے شعبے میں تعاون کے فروغ کے لیے بھی مکمل طور پر تیار ہے۔

وزیرِ خارجہ نے ایران اور ترکیہ کے درمیان ریلوے رابطے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اس منصوبے پر تعمیراتی کام جلد شروع ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ ایران ترکیہ کے ساتھ نئے سرحدی گزرگاہوں کو فعال بنانے کے لیے بھی آمادہ ہے۔

انہوں نے پارلیمانی سطح پر روابط کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان اعلیٰ سطحی وفود کا تبادلہ جاری ہے اور بہت جلد وان میں ایران کے قونصل خانے کی سرگرمیوں کا باقاعدہ آغاز ہو جائے گا، جس سے سرحدی صوبوں کے درمیان تعاون کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

علاقائی صورتحال پر گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے عباس عراقچی نے کہا کہ دونوں ممالک نے خطے کے بارے میں تفصیلی تبادلۂ خیال کیا اور کئی امور پر مشترکہ تشویش اور ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ فلسطین کا مسئلہ مذاکرات کے اہم ترین موضوعات میں شامل تھا۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے شام اور لبنان پر حملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ پورے خطے کے لیے بڑے اور خطرناک منصوبے رکھتا ہے، اور شام کے لیے سب سے بڑا خطرہ اسی اسرائیلی جارحیت اور قبضے سے ہے۔

عباس عراقچی نے قفقاز سے متعلق ایران کے مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ایران خطے میں استحکام کا حامی ہے، جس میں علاقائی ممالک کا کردار ہو اور بیرونی مداخلت سے گریز کیا جائے۔

دہشت گردی کے خلاف جدوجہد پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران، پی کے کے کے غیر مسلح ہونے کی حمایت کرتا ہے اور ترکیہ کو دہشت گردی سے پاک بنانے کی کوششوں کے ساتھ ساتھ تمام دہشت گرد گروہوں کے خاتمے پر زور دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملاقات میں جوہری معاملات، ظالمانہ پابندیوں اور اسنیپ بیک جیسے موضوعات پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

آخر میں وزیرِ خارجہ نے ایران اور ترکیہ کے تعلقات کے مستقبل کے حوالے سے امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات کے لیے روشن امکانات موجود ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha